ماں کبھی نہیں سو سکتی۔

جب میں ماں کے پیٹ میں تھا تو وہ حمل کے درد کیوجہ سے نہیں سو سکتی تھی۔

میرے پیداہونے کے بعد میں راتوں کو بے چین ہو کر روتا تھا اور وہ میرے بے چین ہونے کیوجہ سے نہیں سو سکتی تھی۔

جب میں نے چلنا شروع کیا تو اس خوف سے کہ کہیں میں گِر نہ پڑوں میری ماں نہیں سوتی تھی۔

جب میں بیمار پڑتا تو ماں ساری رات میرے سرہانے بیٹھ کر دُعائیں کرتی رہتی اور میرے سونے پر بھی نا سو سکتی تھی۔

اور جب میں بڑا ہُوا اور شام کو یہ کہہ کر باہر جاتا کہ ماں میرا انتظار مت کرنا آج میں دیر سے آؤں گا تو ماں میری واپسی تک نہ سوتی تھی۔

اپنی ماں کا احترام کرو، وہ تمہاری جنت ہے۔

بان کی کھری کھاٹ کے اُوپر، ہر آہٹ پر کان دھرے

آدھی سوئی آدھی جاگی تھکی دوپہری جیسی ماں۔

 

اس پوسٹ کو بھی پڑھیں: خُوبصورت خیالات جو زندگی کے ہر پل کو جینا سِکھائیں۔

Sharing is caring! پوسٹ شیئر کرنے پر آپ کا بے حد شکریہ

We would love to hear from you! - اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیئے

comments