محترمہ فاطمہ جناح۔ ایک عظیم شخصیت۔ مسلم خواتین کےلیے مشعلِ راہ۔
(سُپر وومن آف پاکستان)

محترمہ فاطمہ جناح، جن کا نام تاریخ کی باہمت، بُلند حوصلہ اور جدوجہدِ مسلسل کرنے والی عظیم خواتین میں سرِفہرست ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح کا شُمار بلاشبہ اُن لوگوں میں کیا جا سکتا ہے جِنہوں نے اپنے عزم اور حوصلے سے ناممکن کو ممکن کر دِکھانے کی مثال قائم کی۔ محترمہ فاطمہ جناح کا نام بھی خاندان کی پہچان کا سبب بنا۔ جناح خاندان سے تعلق رکھنے والی تاریخ کی مضبوط ترین شخصیت اپنے والدین کی سب سے چھوٹی اولاد تھیں۔ جیسا کہ عموماً سب سے چھوٹے بچے اپنے خاندان بھر کے لاڈلے ہوتے ہیں اور انکو انتہائی نازونعم سے پالا جاتا ہے اُسی طرح محترمہ فاطمہ جناح بھی انتہائی لاڈلی بیٹی تھیں۔ خاص طور پر سب سے بڑے بھائی محمد علی جناح اُن سے بیحد پیار کرتے تھے۔ اور یہ قائداعظم محمد علی جناح کا اپنی بہن سے پیار  ہی تھا جس نے محترمہ فاطمہ جناح کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مدد دی۔ کیونکہ اُس دور میں عموماً تعلم اور خصوصاً اعلیٰ تعلیم دلانے کی مُخالفت کی جاتی تھی، اُسی طرح محترمہ فاطمہ جناح کو بھی تعلیم دلانے کی مُخالفت کی گئی مگر سب سے بڑے بھائی قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی لاڈلی بہن کا ساتھ دیا اور خاندان کی مُخالفت مول لے کر محترمہ کو اعلیٰ تعلیم دلائی اور یہ اعلیٰ تعلیم ہی تھی جس نے نازونعم سے پلی اس  متمول گھرانے کی لڑکی کو ہندوستان کی تاریخ بدلنے میں اہم کردار ادا کرنے کا قابل بنایا۔

تعلیم یافتہ بہن نے اپنے قابل بھائی محمد علی جناح کی مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کے قیام کی بظاہر ناممکن نظر آنے والی خواہش کو ممکن بنانے کی جدوجہد میں ممکن حد تک ساتھ دیا۔ پاکستان بننے اور قائداعظم کی وفات کے بعد بھی محترمہ نے پاکستان اور قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے انتھک محنت کی جس کے نتیجے میں قوم نے اُنکو مادرِ ملت کا نام دِیا۔
محترمہ فاطمہ جناح کراچی کے ایک متمول گھرانے میں 30 جولائی 1893 کو پیدا ہوئیں۔ سات بہن بھائیوں میں وہ سب سے چھوٹی تھیں، اُنکے والدِ گرامی کا نام جناب پُونجا جناح  اور والدہ محترمہ کا نام مٹھی بائی تھا۔ جناب پونجا جناح کراچی کی ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے۔

محترمہ فاطمہ جناح کے چار بھائی تھے   جن کے نام عمر کے لحاظ سے بالتریب محمد علی جناح، احمد علی جناح ، رحمت علی جناح اور بندے علی جناح تھے۔ محترمہ کی دو بہنیں بھی تھیں جن کے نام مریم جناح اور شیریں جناح تھے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذِکر ہُوا کہ فاطمہ جناح خاندان بھر کی لاڈلی تھیں خاص طور پر سب سے بڑے بھائی قائداعظم محمد علی جناح اُن سے بہت پیار کرتے تھے۔ ابھی محترمہ دو سال کی تھیں کہ انکی والدہ کا انتقال ہو گیا، بہت چھوٹی ہونے کے سبب سب اُنکا بہت خیال رکھتے تھے۔ محترمہ کا بچپن دِلچسپیوں سے بھرپُور تھا۔ محترمہ کے مشاغل میں سائیکل چلانا، چاکلیٹ کھانا اور کتابیں پڑھنا تھے۔ قائداعظم نے محترمہ کی ذہانت کو جلد بھانپ لیا اور انکی تعلیم میں خصوصی دلچسپی لینا شروع کردی۔ محترمہ کی تعلیم کا آغاز کراچی سے شروع ہوا   پھر بمبئی (حالیہ ممبئی )ہجرت کے سبب   محترمہ فاطمہ جناح  نےپرائمری کا امتحان  باندرہ کانونٹ سکول سے پاس کیا۔ پھر میٹرک کا امتحان 1910 میں سینٹ پیٹرک سکول کھنڈالہ سے پاس کیا۔ محترمہ نے 1913 میں سینئر کیمرج کا امتحان بھی پاس کیا جو اُنکی اعلیٰ انگریزی بول چال کا باعث بنا۔ 1919 میں محترمہ نے ڈاکٹر احمد ڈینٹل کالج کلکتہ  میں داخلہ لیا اور وہاں سے ڈینٹل سرجری کی ڈگری لینے کے بعد 1923 میں بمبئی میں اپنا کلینک کھول لیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی مسلمانوں کے لیے الگ وطن حاصل کرنے کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے محترمہ نے اپنے بھائی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور دن رات انکے حوصلے اور عزم کو بڑھاتی رہیں۔ اُسوقت کی مسلمان خواتین میں سیاسی شعور کو اُبھارنے  میں بھی محترمہ کا ہاتھ تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم نے خواتین کی تنظیم اپوا (آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن) کی بُنیاد رکھی اور محترمہ کو اُسکا چیئر پرسن بنا دیا۔ محترمہ نے ہندوستان سے آنیوالے لُٹے پُٹے اور بد حال مہاجرین کی آباد کاری کے لیے بھی انتھک محنت کی اور  مہاجرین کو نو زائیدہ مملکت  پاکستان کا فعال شہری بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

محترمہ کو اُنکی کاوشوں کے نتیجے میں قوم نے مادرِ ملت کے خطاب سے نوازا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے پاکستان کے مُختلف سربراہانِ مملکت کی نا اہلی دیکھتے ہوئے 1965 میں ایوب خان کے مارشل لاء کے دور میں عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور 1965 میں ایوب خان کے مُقابلے الیکشن میں حصہ لیا، ایوب خان اور ان کے حامیوں کی دہاندلی کی وجہ سے محترمہ الیکشن ہار گئیں مگر قوم نے انکو جیتا ہی تصور کیا خصوصاً کراچی اور ٹوبہ ٹیک سِنگھ میں محترمہ نے دہاندلی کے باوجود واضح برتری حاصل کی۔

9 جولائی 1967 میں محترمہ نے 74 برس  کی عمر میں کراچی میں وفات پائی۔ پیدائشی شہر کراچی ہی انکا مدفن بنا۔  محترمہ فاطمہ جناح ہمیشہ خواتین کے حقوق کی علمبردار رہیں، وہ انتہائی بہادر اور مضبوط ترین شخصیت تھیں۔ وہ آج بھی قائد اعظم  محمد علی جناح کی طرح ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہیں۔ اللہ اُنہیں جنت میں اعلیٰ مُقام دے۔ آمین۔

اس پوسٹ کو بھی پڑھیں: میں اپنے ابّا کی بیٹی ہوں۔ میرے ابُو جیسا  کوئی نہیں۔

Sharing is caring! پوسٹ شیئر کرنے پر آپ کا بے حد شکریہ

We would love to hear from you! - اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیئے

comments